بیت اللہ میں ولادت اور مسجد میں شہادت امیرالمومنین  حضرت علیؑ کا منفرد اعزاز / سید اعجاز کاشان

Home » Kashmir » بیت اللہ میں ولادت اور مسجد میں شہادت امیرالمومنین  حضرت علیؑ کا منفرد اعزاز / سید اعجاز کاشان

By FK WEB DESK on 26/05/2019.

بیت اللہ میں ولادت اور مسجد میں شہادت امیرالمومنین  حضرت علیؑ کا منفرد اعزاز / سید اعجاز کاشان
سری نگر 26 مئی//
یوم شہادت  امیرالمومنین حضرت علیؑ کے موقع پر اپنے پیغام میں معروف سماجی کارکن و دینی تنظیم جموں وکشمیر عالمی امہ کے نائب صدر سید اعجاز کاشانی نے کہ پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی رسالت اور اسلام کے پیغام کو ترویج دینے  کے لئے جہاں بہت سے صحابہ کرام کو تیار کیا اور ان کی تربیت کی وہی خصوصن اسلام کی نشرواشاعت ، اسلام کے تحفظ اور اسلام کے نفاذ کے لئے امیرالمومنین حضرت علی ابن ابی طالب کو خصوصی طور پر تیار کیا ،بچپن سے لے کر زندگی کے تمام مراحل تک حضرت امیرالمومنین حضرت علیؑ خلوت وجلوت میں پیغمبر خدا کیساتھ شانہ بہ شانہ رہے جس کی قرابت کا ذکر احادیث پیغمبر اور اقوال حضرت علیؑ میں واضح انداز میں ملتا ہے کہ امیرا لمومنین حضرت علیؑ نے زندگی کے تمام مراحل رسول خدا کی نگرانی و سرپرستی میں طے کئے۔ سید اعجاز کاشانی کا کہنا تھا کہ پیغمبر خدا سے اسی براہ راست رشتے، تعلق اور سرپرستی کا سبب ہی کہ امیرالمومنین حضرت علیؑ کی زندگی تعلیمات قرآنی اور سیرت رسول اکرم کا عملی نمونہ اور روشن تفسیر کے طور پر موجود ہے۔ اسی تربیت کی وجہ ہے کہ امیرالمومنین کا دور حکومت بہت سارے بحرانوں کے باوجود کامیاب دور حکومت تھا۔ سید اعجاز کاشانی نے مزید  کہا کہ محراب مسجد کوفہ سے بلند ہونے والی فزت برب الکعبہ کی صدا دنیائے عالم میں گونج رہی ہے۔ بیت اللہ میں ولادت اور مسجد میں شہادت امیرالمومنین حضرت علیؑ کا منفرد اعزاز ہے۔ آپ کی ذات کا ایک اور منفرد پہلو عدل و انصاف کا نفاذ ہے جو انہیں دنیا کے تمام سابقہ اور آئندہ حکمرانوں سے جدا اور منفرد کرتا ہے۔ سید اعجاز کاشانی نے کہا کہ جب ہم امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب کی شہادت کی وجوہات کا جائزہ لیتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں کو امیر المومنین کی ذات اور جسم سے دشمنی نہیں تھی بلکہ ان کی فکر اور اصلاحات سے عدوات تھی جو کہ علی ابن ابی طالب نے سیاسی، معاشی اور معاشرتی میدانوں میں کی تھیں۔ لہذا کہا جاسکتا ہے کہ امیر المومنین کی شہادت ایک شخص یا فرد کی شہادت نہیں تھی بلکہ ایک سوچ، فکر اور نظریے کی شہادت تھی۔